ابنا: وزیراعظم یوسف رضاگیلانینے امریکی جریدے کوانٹرویودیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اورامریکادہشت گردی کیخلاف ملکرجنگ کررہے ہیں،اگرہم کسی جنگ میں ساتھ ہیں توآپریشن بھی مل کرہی کرناچاہیے تھا،اسامہ کی موجودگی کی ٹھوس اطلاع پرمشترکہ کارروائی کی جاسکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حیران ہیں کہ امریکانے یہ آپریشن اکیلے کیوں کیا،ایبٹ آبادمیں کارروائی کے وقت ہمیں اعتمادمیں کیوں نہیں لیاگیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں عوامی رائے عامہ امریکاکیخلاف ہے،عوامی رائے عامہ کیخلاف کیسے چل سکتاہوں،مجھے اپنے عوام کی رائے کے ساتھ چلناہے۔ انہوں نے کہا کہپاکستان اورامریکاکادہشت گردی کیخلاف جنگ میں موقف الگ الگ تھا،دونوں ملکوں میں اعتمادکافقدان ہے،جس کی بحالی کیلئے امریکاکوفوری اقدامات کرنا ہونگے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تواطلاعات کے تبادلے میں مسائل ہونگے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اعتماد بحال نہ ہواتوامریکاکی مزیدحمایت کرنے سے حکومت خطرے میں پڑسکتی ہے۔انہوں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئی ایس آئی،سی آئی اے تعاون ایبٹ آبادآپریشن کے بعدختم ہوگیاتھا،سی آئی اے اورآئی ایس آئی میں اب اعتمادکافقدان ہے، اسامہ صرف پاکستان میں ہی نہیں رہا،اسامہ کی پاکستان میں موجودگی سب کی انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ امریکاکوبراہ راست بات کرنی چاہیے،ہمیں سب اطلاعات میڈیاسے مل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169
11 مئی 2011 - 19:30
News ID: 241228
اسلام آباد . . . . . وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ میں کوئی فوجی ڈکٹیٹرنہیں عوامی نمایندہ ہوں،میری حکومت ایسے ایوان کوجوابدہ ہے جہاں امریکاکی مخالفت بڑھ رہی ہے،اگرعوامی رائے امریکامخالف ہوتومیں اسکی مزاحمت نہیں کر سکتا۔